Warning: Trying to access array offset on value of type null in /usr/www/users/darulwvmad/wp-content/plugins/copy-link/wp-copy.php on line 89 Warning: Trying to access array offset on value of type null in /usr/www/users/darulwvmad/wp-content/plugins/copy-link/wp-copy.php on line 129 Warning: Trying to access array offset on value of type null in /usr/www/users/darulwvmad/wp-content/plugins/copy-link/wp-copy.php on line 129 Warning: Trying to access array offset on value of type null in /usr/www/users/darulwvmad/wp-content/plugins/copy-link/wp-copy.php on line 129

QASR AT COTTAGE

Question:

Assalamualaykum warahmatullahi wabarakatuh.;

Mufti Saab

Kindly advise

When we travel to the lake is it qasr namaaz or is it full namaaz?

Does the ruling change if you own a cottage?

We own a cottage at the lake so do we have to pray qasr or full namaaz pls advise.

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Watan al-asli is defined as:

1)    The place where your wife and children stay or

2)    The place where you were born and grew up or

3)    The place you intend to stay permanently

In the enquired situation, you have purchased/built the cottage for vacation purposes only. You do not intend living there permanently neither are your wife and children residing there.

Accordingly, if your stay is less than 15 days, you will pray Qasr. If your stay is for 15 days or more, you will pray your Salah in full. [1]

And Allah Ta’āla Knows Best

[Mufti] Safwaan Ibn Ml Ahmed Ibn Ibrahim

Darul Iftaa
Limbe, Malawi

___________________________

[1] الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 131) – دار الفكر-بيروت

(الْوَطَنُ الْأَصْلِيُّ) هُوَ مَوْطِنُ وِلَادَتِهِ أَوْ تَأَهُّلِهِ أَوْ تُوَطِّنْهُ (يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ) إذَا لَمْ يَبْقَ لَهُ بِالْأَوَّلِ أَهْلٌ، فَلَوْ بَقِيَ لَمْ يَبْطُلْ بَلْ يُتِمُّ فِيهِمَا (لَا غَيْرُ وَ) يَبْطُلُ (وَطَنُ الْإِقَامَةِ بِمِثْلِهِ وَ) بِالْوَطَنِ

  • ———————————•

[رد المحتار]

[مَطْلَبٌ فِي الْوَطَنِ الْأَصْلِيِّ وَوَطَنِ الْإِقَامَةِ]

(قَوْلُهُ الْوَطَنُ الْأَصْلِيُّ) وَيُسَمَّى بِالْأَهْلِيِّ وَوَطَنِ الْفِطْرَةِ وَالْقَرَارِ ح عَنْ الْقُهُسْتَانِيِّ.

(قَوْلُهُ أَوْ تَأَهُّلِهِ) أَيْ تَزَوُّجِهِ. قَالَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ: وَلَوْ تَزَوَّجَ الْمُسَافِرُ بِبَلَدٍ وَلَمْ يَنْوِ الْإِقَامَةَ بِهِ فَقِيلَ لَا يَصِيرُ مُقِيمًا، وَقِيلَ يَصِيرُ مُقِيمًا؛ وَهُوَ الْأَوْجَهُ وَلَوْ كَانَ لَهُ أَهْلٌ بِبَلْدَتَيْنِ فَأَيَّتُهُمَا دَخَلَهَا صَارَ مُقِيمًا، فَإِنْ مَاتَتْ زَوْجَتُهُ فِي إحْدَاهُمَا وَبَقِيَ لَهُ فِيهَا دُورٌ وَعَقَارٌ قِيلَ لَا يَبْقَى وَطَنًا لَهُ إذْ الْمُعْتَبَرُ الْأَهْلُ دُونَ الدَّارِ كَمَا لَوْ تَأَهَّلَ بِبَلْدَةٍ وَاسْتَقَرَّتْ سَكَنًا لَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيهَا دَارٌ وَقِيلَ تَبْقَى. اهـ.

(قَوْلُهُ أَوْ تَوَطُّنِهِ) أَيْ عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَعَدَمِ الِارْتِحَالِ وَإِنْ لَمْ يَتَأَهَّلْ، فَلَوْ كَانَ لَهُ أَبَوَانِ بِبَلَدٍ غَيْرِ مَوْلِدِهِ وَهُوَ بَالِغٌ وَلَمْ يَتَأَهَّلْ بِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ وَطَنًا لَهُ إلَّا إذَا عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَتَرَكَ الْوَطَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ قَبْلَهُ شَرْحُ الْمُنْيَةِ.

(قَوْلُهُ يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ) سَوَاءٌ كَانَ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ سَفَرٍ أَوْ لَا، وَلَا خِلَافَ فِي ذَلِكَ كَمَا فِي الْمُحِيطِ قُهُسْتَانِيٌّ، وَقَيَّدَ بِقَوْلِهِ بِمِثْلِهِ لِأَنَّهُ لَوْ انْتَقَلَ مِنْهُ قَاصِدًا غَيْرَهُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَتَوَطَّنَ فِي مَكَان آخَرَ فَمَرَّ بِالْأَوَّلِ أَتَمَّ لِأَنَّهُ لَمْ يَتَوَطَّنْ غَيْرَهُ نَهْرٌ.

(قَوْلُهُ إذَا لَمْ يَبْقَ لَهُ بِالْأَوَّلِ أَهْلٌ) أَيْ وَإِنْ بَقِيَ لَهُ فِيهِ عَقَارٌ قَالَ فِي النَّهْرِ: وَلَوْ نَقَلَ أَهْلَهُ وَمَتَاعَهُ وَلَهُ دُورٌ فِي الْبَلَدِ لَا تَبْقَى وَطَنًا لَهُ وَقِيلَ تَبْقَى كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَغَيْرِهِ.

دو وطنِ اصلی ہوں تو قصر کا حکم

سوال

اگر کسی کے دو گھر ہوں، کبھی ایک میں رہتا ہو اور کبھی دوسرے میں، اس کے درمیان کا سفر شرعی ہو تو کہاں قصر نماز پڑھے گا؟

جواب

اگر کسی شخص کے دو علاقوں میں گھر ہوں اور دونوں علاقوں کے متعلق اس کی یہ نیت ہو کہ وہ اس کے وطن ہیں تو وہ دونوں جگہوں پر مکمل نماز پڑھے گا، اگر چہ دونوں علاقوں کے درمیان مسافت سفر ہو اور اس کی مدت اقامت پندرہ دن سے کم ہو۔

لیکن اگر اس کی نیت صرف ایک علاقے کو وطن بنانے کی ہو تو جس علاقے کے متعلق اس نے وطن بنانے کی نیت نہ کی ہو اگروہ وہاں پندرہ دن سے کم کے لیے ٹھہرے گا تو قصر نماز پڑھے  گا اور اگر  پندرہ دن یا اس سے زیادہ کا قیام کا ارادہ ہو تو اتمام کرے گا۔

بہر دو صورت اگر دونوں وطن کے درمیان مسافتِ سفر سے زیادہ سفر ہے (مثلاً: کراچی اور اسلام آباد)، اور درمیان میں چار رکعت والی نماز کا وقت آتاہے تو دورانِ سفر  وہ نماز قصر ادا کی جائے گی۔

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

فتوی نمبر :144103200347

تاریخ اجراء :13-11-2019

کسی جگہ زرعی زمین اور گھر ہو تو کیا وہ وطن اصلی ہے؟

سوال

اگر کسی شخص کی دو جگہ رہائش ہو،  ایک جگہ ذاتی مکان اور دوسری جگہ سو کلومیٹر  سے زیادہ فاصلہ پر زرعی زمین، مکان اور رہائش ہو ،  لیکن ادھر  بچے نہ ہوں اور کام یعنی زمین کی دیکھ  بھال کے لیے، یہاں رکتا ہو تو  کیا یہ دوسر ی جگہ مسافر ہوگا یا مقیم یعنی قصر نماز ادا کرے گا یا مقیم والی؟

جواب

فقہاءِ کرام   نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی جائے ولادت یا  جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی تو یہ جگہ وطنِ اصلی بن جاتی ہے، مذکورہ صورت میں جس جگہ زرعی زمین اور عارضی رہائش ہے، مستقل رہائش نہیں ہے، وہ جگہ وطن اصلی نہ بنے گی، اگر 15 دن رہنے کی نیت کرکے آئے گا تو پوری نماز پڑھے گا  ورنہ قصر پڑھے گا۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144109202063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 

فتاوی دار العلوم دیوبند (4/327) – اشاعت

Askimam: 39917

Check Also

Fidya of Salah and Saum

FIDYA OF SALAH AND SAUM (FAST) Brief Guidelines If a person has unfulfilled obligations of …